Seerat un Nabi Urdu | سیرت النبی

Seerat un Nabi Urdu | سیرت النبی

Seerat un Nabi Urdu | سیرت النبی

The Holy Prophet (PBUH) was also a Human of high rank with high morals. If you start writing on his blessed biography, it may not be fulfilled in life. There is an incident in Seerat un Nabi that once while returning from Eid prayers, he saw a child sitting on the ground in a bad condition. He brought him home with him and treated him kindly and beheaded him. But he kept the hand of mercy and compassion. You have never touched a slave or a woman in your entire life. It was a shadow of his biography that when Zayd ibn Haris’s father came to pick him up, he refused to go. Similarly, he once put his hand over the eye of an object and said, “You are the Messenger of Allah.” “No one can show me so much love except you,” he said when asked… 


”سیرت النبی”

انور اکرم حبیب ، یاسین و ماوا سرور کائنات ، خاتم المرسلیں، حضرت ام مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم ، وہ ہستی ہے کہ جس کے آنے سے عرب میں نکھار اور بہار آ گئی جہالت اور اندھیرے ختم ہو گئے امن وسکون کا پیام عرب سے نکل کر کل کائنات میں پھیل گیا۔ آپ کی سیرت مبارک نہ کہ صرف عرب بلکہ پوری دنیا کے لئے نمونہ بن گئی اور آپ انسان کامل ہے۔ دنیا کا عظیم المرتبہ انسان ہے۔

آپ بچوں، بوڑھوں ،عورتوں ، جانوروں قوم درقوم ، ملک در ملک ، قر یہ بقربی، ہر چیز کیلئے یہاں تک کے بے جان اورتباطات کے لئے مثال بن کر آئے ۔ سور وهلم آیت نمبر 2 میں خداتعالی فرماتا ہے۔ ن۔ وَ الْقَلَمِ وَ مَا یَسْطُرُوْنْ : ترجمہ : کہ ہم قلم اور دوات کو اور اسکو جوان (کے ذریے) سے لکھا جاتا ہے شہادت کے طور پر پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں ۔ پھر آیت نمبر 5 میں فرماتا ہے۔وَ اِنَؔکَ لَعَلٰی خُلُقِ عَظِيْمْ : ترجمہ :  یعنی اس کے علاوہ ہم یہ بھی قسم کھاتے ہیں ) کہ تو (محمدﷺ) ( اپنی تعلیم اورعمل ) میں نہایت اعلی درجہ کے اخلاق پر قائم ہے۔ اس ارشا د حضور علم کی روز مرہ کی زندگی سے ملتا ہے آپکے آنے سے عورت کو وہ مقام ملا وہ سایہ رحمت ملا کہ اس کو دنیا میں انسان کے حقوق سے مالا مال کیا گیا لڑکیوں کو جو زندہ درگور کرنے کا رواج تھا اس کا خاتمہ بھی آپ کے اخلاق سے ہوا۔ آپ کی سیرت ہر طبقے کے بچے کے لئے عام تھی جس کی مثال آپ کی زندگی کے بیشمار واقعات دیتے ہیں

حضور ﷺ اعلی اخلاق کے ساتھ اعلیٰ رتبے کا مالک بھی تھے آپﷺ کی سیرت مبارک پر اگر لکھنا شروع کرو تو شاید زندگی میں پورا نہ ہوجائے۔ سیرت النبیﷺ میں ایک واقعہ ذکر ہے کہ ایک مرتبہ عید کی نماز پڑھ کر واپس آرہے تھے کہ آپ نے ایک بچے کو دیکھا جو بد حالت میں زمین پر بیٹھا تھا آپ اسے اپنے ساتھ گھر لے آئے اس کے ساتھ حسن سلوک کیا اور اس کے سر پر رحمت و شفقت کا ہاتھ رکھا۔ آپ نے اپنی پوری زندگی میں کبھی بھی کسی غلام یا عورت پر ہاتھ نہیں اٹھایا۔ یہ آپ کی سیرت کا سایہ ہی تھا کہ جب زید بن حارث کے والد کی ان کو لینے آئے تو انھوں نے جانے سے انکار کر دیا اسی طرح ایک مرتبہ ایک شی کی آنکھوں پر اپنے ہاتھ رکھا اس نے کہا کہ یارسول اللہ ہیں،، آپ کے دریافت کرنے پر اس نے بتایا کہ سوائے آپ کے مجھ سے کوئی بھی اتنی محبت کا اظہار نہیں کر سکتا۔

                               

About admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *