Sheikh Saadi – Sheikh Saadi Story in Urdu

Sheikh Saadi – Sheikh Saadi story in Urdu

Sheikh Saadi beautiful and instructive incident and this incident is between Hulaku Khan and Sheikh Saadi which is very instructive and scholarly.

Sheikh Saadi

 

Sheikh Saadi

وہ وقت جب بغداد میں اسلامی سلطنت کا زوال ہوا اور ہلاکو خان نے ظلم و بربریت سے بغداد کی پرسکون فضاء کو تباہ و برباد کیا تو علم حاصل کرنے کی غرض سے موجود ایک مسافر نے حالات دیکھ کر شکستہ دلی کے ساتھ وہاں سے کوچ کیا۔ لیکن پھر وہ کسی ایک جگہ کے قیام پر مطمئن نہ ہوسکے اور
اطراف عالم کو دیکھنے کے آرزو مند ہوۓ۔
دوستو۔۔!
آج بات کرتے ہیں اس مشہور زمانہ شخصیت کی جن کی رباعیاں اور حکاٸتیں دنیا بھر میں پڑھی اور پڑھاٸی جاتیں ہیں اور انکی لکھی کتابیں بلاشبہ شاہکار ہیں۔
اس شخصیت کا اسم گرامی شرف الدین تھا لقب مصلح الدین اور سعدی تخلص ہے۔ اور
عام طور پر دنیا انہیں شیخ سعدی رح کے نام سے جانتی ہے۔
آپ ایران کے شہر شیراز میں تقریباً 1184 ع میں عبداللہ شیرازی کے گھر پیدا ہوئے۔
آپ کے والد عبداﷲ شیرازی ملک کے حکمران سعد زنگی کے پاس کام کرتے تھے۔
شیخ سعدی کو بچپن ہی سے ادب اور شعرو شاعری کا شوق تھا اس لیے بچپن سے ہی حاکم وقت کے نام کی مناسبت سے آپ نے ”سعدی“ تخلص تجویز کرلیا تھا۔
بعد ازاں اواٸل لڑکپن میں والد کی وفات کے بعد آپ نے شیراز کےعلما سے ابتداٸی تعلیم حاصل کی اور پھر شیراز سے بغداد آئے جہاں انہوں نے مشہور استاذ عبدالرحمن بن جوزی سےفقیہانہ تعلیم پائی۔آپ امام شافعی رح کے پیروکار تھے۔
بغدار پر تاتاریوں کی یلغار اور مسلمانوں کی تباہی دیکھ کر وہ مسلمانوں کے زوال پر بہت رنجیدہ تھے مگر اپنے چاروں طرف انسانیت سوز اور دہشت کے ماحول کے باوجود انہیں انسانوں سے اچھی امید تھی اور اس لیے انہوں نے اپنی تمام تر توجہ اخلاقیات اور خیرو شر کی وضاحت کرنے پر صرف کردی۔
شیخ سعدی نے جس قدر اچھائی اور بھلائی کی وکالت کی ہے وہ اسی قدر عملی اور حقیقت پسندانہ مفکر بھی تھے۔ جس دور میں شیخ سعدی زندگی گزار رہے تھے وہ انتہائی متشدد اور سفاکیت سے بھرا دور تھا۔ انہوں نے زندگی کے اگلے تیس سال سفر میں گزارے۔
ان کے وطن سے طویل باہر رہنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ شیراز اور ان کے گرد و نواح کے علاقوں میں امن و امان نہ تھا۔ یہ زمانہ مظفرالدین سعد بن زنگی کی حکومت تھا۔
1236ء میں سعد زنگی فوت ہوا تو عنان حکومت اس کے بیٹے مظفر الدین ابوبکر بن سعد بن زنگی نے سنبھالی۔
اس نے تاتاریوں سے مصلحت کرکے فارس کو قتل و غارت سے بچایا اور اہل فارس کو امن و امان نصیب ہوا ۔
جب دور دور تک اسکے عدل و انصاف کی خبریں پہنچیں تو شیخ سعدی کو وطن واپسی کا خیال آیا اور وطن کی محبت بالآخر انہیں شیراز لے آئی۔
آپ نے تقریبا سو سال زندگی پاٸی۔ جس میں تیس سال تک تعلیم حاصل کرتے رہے، تیس سال سیروسیاحت کی، تیس سال تصانیف لکھنے میں گزارے اور بقیہ زندگی گوشہ نشینی میں گزار دی۔
ایک یہ بھی ان کی عظمت کی دلیل ہے کہ آج تقریباً 800 سال کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی ایران سے باہر کے ممالک میں ان کی تصنیف کردہ کتاب گلستان کسی نہ کسی شکل میں درسی نصاب میں ضرور شامل ہے۔ شیخ سعدی رح کو ان کے اقوال زریں کی وجہ سے بہت شہرت حاصل ہے جن میں سب سے زیادہ مشہور “بنی آدم” اور “گلستان” کا حصہ ہے۔
سعدی کو گلستان اور بوستان تحریر کیے ہوئے بہت سے خزاں کے موسم گزر چکے ہیں لیکن صدیوں پہلے شیراز واپس آنے کے بعد ان کی گٸی پیشن گوئی کے مطابق ان کی حکمت اور دانشمندی سےبھری یہ کتابیں وقت کی آزمائش پر پوری اتری ہیں۔
شیخ سعدی کی ایک عربی رباعی بہت مشہور ہے۔
بلغ العلےٰ بکمالہٖ​
کشفَ الدُجیٰ بجمالہٖ​
حسُنت جمیعُ خِصالہٖ​
صلو علیہ و آلہٖ​
ترجمہ:
​​پہنچے بلندیوں پہ ، وہ ﷺ اپنے کمال سے​
چھٹ گئے اندھیرے آپ ﷺ کے حسن و جمال
آپ کی سبھی عادات مبارکہ اور سنتیں بہت پیاری ہیں​ آپ ﷺ پر اور آپ ﷺ کی آل پر سلام ہو​
مشہور واقعہ ہے کہ انہوں نے مدح رسول میں تین مصرعے کہے ،کوشش کے باوجود چوتھا مصرعہ نہ بن پا رہا تھا اور سخت پریشان تھے۔ ایک شب انہ خواب میں بشارت ہوئی حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بنفس نفیس موجود ہیں اور شیخ سعدی سے فرماتے ہیں سعدی تم نے تین مصرعے کہے ہیں ذرا سناؤ۔
شیخ سعدی نے تینوں مصرعے سنائے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ مصرعہ بڑھا لو
”صلو علیہ و آلہ“
اور یوں حضرت شیخ سعدی کی نعتیہ رباعی مکمل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے شیخ سعدی رح کی اس رباعی کو شرف قبولیت بخشا۔ہندوستان سے ملتان کے حاکم نے قاصد بھیج کر آپ کو ہندوستان آنے کی دعوت دی مگر ضعف و کمزوری کی وجہ سے آپ نے معذرت کرلی تھی۔ آپ نے اپنی باقی عمر شیراز کی ایک خانقاہ میں گوشہ نشینی اختیار کر کے گزاری، جو شیراز ‏ڈیڑھ میل کے فاصلے پر رکن آباد کے کنارے واقع ہے۔
بعد از وفات اسی خانقاہ میں انہیں دفن کیا گیا۔
آپ کا مزار سعدیہ کے نام سے مشہور ہے جس کے اردگرد ایک شاندار باغ ہے جو کہ مرجع خلائق ہے۔
بعد از وفات تربت ما در زمیں مجوی
درسینہ ھای مردم عارف مزار ما است

Leave a Reply

Your email address will not be published.