Talaq || Talaq K Masail , 3 Talaq K Baad Ruju ،طلاق کے مسائل

Talaq || Talaq K Masail , 3 Talaq K Baad Ruju، طلاق کے مسائل

Friends, divorce is one of the most undesirable acts of Islam. Divorce has been legalized for necessity and to prevent domestic problems from escalating or moving towards enmity. Because if a wife is not happy with her husband in married life or is happy but the husband is unhappy, then divorce is allowed to avoid such situations.

One thing to keep in mind is that if a husband or wife wants a divorce for no reason. So, Allah Almighty would have disgraced her in the world by depriving her of her married life so that this lawful act would not be misused in the future. Therefore, we have mentioned below the Masail of divorce in full detail. These issues may not be found anywhere on the Internet, so we have mentioned 3 Masail of divorce in detail, 3 talaq after ruju, Ghussay main Talaq dena etc. 

 

” Talaq K Masail  “

 

Talaq ، Talak Different Kinds of Talaq

طلاق کا معنیٰ ہیں علیحدگی ، دور ہونا یعنی کوئی شخص بیوی کو طلاق دیکر دور ہوجائے۔ طلاق تین قسم کے ہیں ۔ پہلا قسم طلاق رجعی دوسرا قسم طلاق بائن اور تیسرا قسم طلاق مغلظ طلاق کے سارے مسائل اور درجات ان تین اقسام میں موجود ہیں نیچھے تفصیل دیکھ لیجئے۔ 

Talaq e Rajae , طلاق رجعی

طلاق کے اقسام میں سے سب سے پہلا قسم طلاق رجعی ہیں جوکہ ایک بار طلاق دینے سے واقع ہوجاتا ہیں۔ جیسا کہ کوئی شخص کہے کہ ” میں تجھ کو طلاق دیتا ہو ” یہ جملہ ایک بار کہا تو یہ طلاق طلاق رجعی واقع ہوگا۔  طلاق رجعی کا حکم ہیں کہ اس طلاق کے بعد بیوی کو صرف رجوع شرط ہیں اس میں تجدید نکاح وغیرہ نہیں ہیں۔ یعنی بس بیوی کی طرف جانے سے نکاح بحال ہوتا ہیں۔

 

Talaq e baien , طلاق بائن

طلاق بائن طلاق کی دوسری قسم ہیں۔ اور یہ طلاق الفاظ کنایہ سے واقع ہوجاتا ہیں لیکن شرط یہ ہیں کہ شوہر کا مقصد طلاق دینا ہو۔ الفاظ کنایہ جیسا کہ  ” اپنے گھر جاؤں ” اپنے لئے شوہر ڈھونڈو ” مجھےچھوڑ کر جاؤ ” جاؤ شادی کرو وغیرہ اسطر کے الفاظ جو کنایہ جو یعنی اس سے واضح ثابت نہ ہو بلکہ اسکے مطلب سے طلاق مراد ہو ایسے الفاظ سے طلاق بائن واقع ہوجاتا ہیں۔ اور طلاق بائن کا حکم یہ ہیں کہ اس طلاق کے بعد تجدید نکاح لازمی ہیں یعنی اگر کوئی یہ الفاظ یا اسی طرح اور الفاظ کہے بیوی کو اور اسکا مراد طلاق ہو تو اس سے طلاق واقع ہوجاتا ہیں۔ لھذا اس کے بعد میاں بیوی کو اکھٹا ہونے کیلئے نکاح کو دوبارہ کرینگے یعنی تجدید نکاح کرینگے۔

 

Talaq Mughallazah , طلاق مغلظ

طلاق کی تیسری قسم کو طلاق مغلظ کہتے ہیں۔  طلاق مغلظ الفاظ صریح سے بیوی کو تین طلاق دینے کو کہتے ہیں جیسا کہ اگر کوئی شخص اپنے بیوی کو کہے کہ ” میں تجھے طلاق دیتا ہو طلاق دیتا طلاق دیتا ہو ” ایسے صریحا الفاظ سے طلاق واقع ہوجاتا ہیں۔ خواہ یہ طلاق ایک مجلس میں ہو یا الگ الگ مجلس میں لیکن طلاق مغلظ اور تین ہی واقع ہوتا ہیں۔ طلاق مغلظ کا حکم یہ ہیں کہ اس طرح بیوی کو کہہ کر علیحدگی اختیار کرنے کے بعد حلالہ کیا جائے گا یعنی ” یہ عورت دوسری شوہر کے ساتھ نکاح کرکے رات گزارنے کے بعد دوبارہ پہلے والے شوہر کے پاس نکاح کرکے آسکتی ہیں ورنہ یہ مکمل علیحدہ ہوچکا ہیں اس میں کوئی اور راستہ نہیں جیسا کہ تجدید نکاح یا رجوع وغیرہ

Divorced Meaning in Urdu

طلاق کا لغوی معنی ہیں۔ بے لگام چھوڑنا، چھوڑنا ، دور ہوجان اصطلاح میں وہ عمل جس کی وجہ سے شوہر اور بیوی کی علیحدگی واقع ہوتی ہیں اس کو طلاق کہتے ہیں۔ جیسا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو کہے کہ میں تجھ سے علیحدگی اختیار کرہا ہو اور اسکا مطلب طلاق دینا ہیں تو یہ طلاق واقع ہوتی ہیں۔ لھذا مزید تفصیل اوپر دیکھ لیجئے۔ دوستوں اسلام کے جائز کاموں میں سب سے ناپسندیدہ عمل طلاق ہیں ۔ طلاق چونکہ ضروریات اور گھریلوں مسائل بڑھانے یا دشمنی کی طرف جانے سے رکتام کیلئے جائز قرار دے دیا ہیں۔ کیونکہ اگر ایک بیوی شوہر کے ساتھ خوش نہیں ہیں ازدواجی زندگی میں یا خوش ہیں لیکن شوہر نارضا ہو تو ایسے حالات سے بچنے کیلئے طلاق کی اجازت دیا گیا ہیں۔ ایک بات یاد رکھے کہ اگر شوہر یا بیوی بلا وجہ طلاق چاہتی ہیں۔ تو دنیا میں اللہ تعالٰی اسکو ازدواجی زندگی سے محرورم کرکے لوگوں کے سامنے رسوا کرینگے تھا کہ ائندہ اس جائز عمل کا غلط استعمال نہ کیا جائے۔ لھذا ہم نے نیچے طلاق کے بارے میں مکمل تفصیل کے ساتھ مسائل ذکر کی ہیں یہ مسائل شائد آپ کو انٹرنیٹ کہی بھی نہ مل جائے اس لیئے ہم نےتفصیلا 3 طلاق کے مسائل کو ذکر کیا۔

طلاق دینے سے پہلے کن کن باتوں کا خیال رکھنا چاہئے ؟ 

طلاق دیناشریعت اسلامی کے جائز کاموں میں ناپسندیدہ کاموں میں سے ایک ہیں۔ لھذا طلاق بیوی کو اپنے شوہر سے دور کرتی ہیں اس سے پہلے کہ طلاق دیکر انسان پچتائے ان باتوں پر عمل کریں پہلے۔ پہلا اپنی بیوی سے دوری اختیار کرو یعنی بیوی سے کہی دور چلے جاؤ اپنا گھر چھوڑ کر یا بیوی اپنے میکے چھوڑو ایک دو ہفتوں کیلئے ان دنوں میں خود بخود اس میں کوئی گنجائش نکل آئے گی  انشااللہ۔ دوسرا یہ کہ بیوی سے پیار محبت کرنا شروع کروں شائد پیار محبت کی وجہ سے دل بد ہوگیا ہو۔

اگر ان سے بھی نہ تو پھر سسرال اور اپنے ماں باپ کو مسئلہ پیش کرو شائد وہ کوئی فیصلہ کریں ۔ اسکے علاوہ اگر کوئی اور راستہ ہو گھر بسانے کے تو اس کو ضرور استعمال کرو۔ اور اگر کوئی مسودہ کام نہیں کررہا تو پھر ایک طلاق دے دیں ۔ اور سبر کریں اگر پھر بھی حلات وہی ہو تو پھر طلاق دیکر بیوی کو فارغ کرستے ہیں۔ لیکن طلاق میں بہت احتیاط سے کام لیا کروں کیونکہ عورت بہت نزدیک تک سوچتی ہیں اگر مسئلہ بیوی کی طرف سے ہو تو پھر شوہر کا یہ حق بنتا ہیں کہ بیوی کو منالیں کسی بھی صورت میں کیوں نہ ہو لیکن گھر کو بچالیں۔

 

نوٹ 

یہ مسائل ہم نے طلاق کے قسام کے مطابق ذکر کیا ہیں اور بعض حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے یہ مسائل کو پیش کیا۔ لیکن اگر طلاق کے مسائل کو پورا جاننا ہیں اور اپنے مجلس اور حالات کے مطابق پورا مسئلہ جاننا ہیں تو پھر کوئی مفتی سے رابطہ کرکے مسئلہ ان بتائیں۔ یا ہم سے رابطہ کریں ہم فری میں آپ کے مسائل کا حل بتائیں گے۔  

, ,

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *